27 مارچ 2011 - 19:30

پاراچنار پاکستان کے قبائلی علاقے میں واقع ایک ایسا خطہ ہے جہا ں دیگر قبائلی علاقوں کے تصور کے برعکس شہری زندگی کا سا احساس ہوتا ہے اور اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ یہاں تعلیم یافتہ طبقے کے لوگ زیادہ آباد ہیں اور شاید علاقے کے خداداد قدرتی حسن اور تہذیب یافتگی کی پاداش میں ہی طالبان اور ان کے مقامی حامیوں نے پچھلے چار برسوں سے اس علاقوں کا محاصرہ کررکھا ہے۔

ابنا: پاراچنار کے شہریوں کے خلاف طالبانی فکر کی جارحیت کا پس منظر کا جائزہ لیتے ہوئے ہم دیکھتے ہیں کہ اس جارحیت کا آغاز سن 1980 کے عشرے سے جڑا ہوا ہے کہ جب پاکستان کے اس وقت کے فوجی صدر جنرل ضیاءالحق کے حمایت یافتہ افغان جہادی لیڈر حکمتیار کے پچاس ہزار جنگجوؤں نے اس شہر اور اس کے نواحی علاقوں کو اپنے راکٹوں اور مارٹر گولوں کا نشانہ بنایا اور پھر کچھ عرصہ بعد گلگت پر چڑھائی کی اور سینکڑوں بے گناہ افراد کو اپنے کینے اور بغض کا نشانہ بنایا۔طالبانی فکر کے حامل ان جنگجوؤں کو مبینہ طور پر حاکمان وقت کی ہمیشہ حمایت حاصل رہی اور اگر ایسا نہ ہوتا تو طالبان ہرگز پاراچنار کا اتنا طویل محاصرہ برقرار نہ رکھ سکتے۔مقامی لوگ اب اس محاصرے کو غزہ کے محاصرے سے تشبیہ دینے لگے ہیں اور حکومت سے مایوس ہوکر ان میں عالمی اداروں سے رجوع کرنے کی فکر پروان چڑھ رھی ہے ۔البتہ عالمی اداروں سے توقع رکھنا عبث ہے اگر یہ ادارے  موثر ہوتے تو غزہ اور اس کے شہری آج اس طرح محصور نہ ہوتے لہذا ان اداروں میں شکایت کرنے کا پاراچنار کے شہریوں کو تو کوئی فائدہ نہیں ہوگا البتہ عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ ضرور متاثر ہوگی ۔لہذا پاکستان کی حکومت کو جو پہلے ہی طرح طرح کے مسائل میں گھری ہوئی ہے اس طرف توجہ دینی چاہیے اور کوشش کرنی چاہیے کہ عالمی اداروں میں شکایت کرنے فکر پروان نہ چڑھنے پائے ۔اطلاعات کے مطابق پارا چنار کے مذہبی رہنما علامہ محمد نواز عرفانی نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت اپنے شہریوں کا دفاع نہيں کرسکتی تو ہم عالمی برادری سے مدد کی درخواست کرنے پرمجبور ہوجائيں گے ۔بتایا جاتا ہے کہ طالبان دہشت گردوں نے پشاور سے پارا چنار جانےوالی دو منی بسوں پر حملہ کیا۔ اس حملے بعد میں‎ ایک منی بس جل کر راکھ ہوگئی اور کئي مسافر شہید اور زخمی ہوگئے ۔طالبان دہشت گردوں نے پینتالیس مسافروں کو جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں اغوا کرلیا ۔عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ طالبان دہشت گردوں نے یہ حملہ سیکورٹی فورسز کی موجود گی میں کیا ، اس سے پہلے بھی کم ازکم چھ بار پشاور اور پارا چنار کے راستے میں مسافروں پر حملہ کیا گیا ہے ۔سیاسی پیچیدگیوں اور بیرونی مداخلت خصوصا امریکی اثر و رسوخ کی بناپر مبصرین اس صورتحال پر کوئی درست اور صحیح تجزیہ کرنے سے قاصر ہیں لیکن مقامی لوگ اسے امریکی ڈالروں اور سعودی ریالوں کا شاخصانہ سمجھتے کہ جن کی ریل پیل نے دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کو مست کررکھا ہے۔امریکی ڈالروں اور سعودی ریالوں کی اسی ریل پیل نے غزہ کے شہریوں پر عرصہ حیات تنگ کر رکھا ہے لہذا یہ کہا جاسکتا ہے کہ پاراچنار سے غزہ تک ایک ہی کہانی چل رھی ہے اور جب تک امریکی مفادات کا تقاضا ہوگا غزہ کے شھریوں کی طرح پاراچنار کے شہری مظلومیت کی علامت بنے رھیں گے ۔  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110